15 جولائی 2012 - 19:30

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ بنوں میں پولیس سٹیشن پر شدت پسندوںکا حملہ سیکورٹی ایجنسیوں اور قانون پر عمل داری کے ذمہ داران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر خفیہ ایجنسیاں دہشت گردوں کی نقل و حرکت اورسرگرمیوں سے اسی طرح بے خبر رہیں توملک کے حساس ترین ادارے بھی دہشت گردوں کی جارحیت سے محفوظ نہیں رہیں گے۔

ابنا: ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں انہوں نے کہا ضرورت اس امر کہ ہے کہ حکومت خفیہ اداروں کوان کی ذمہ داریوں کا احساس دلا ئے اورانہیں شدت پسندوں اور مشکوک عناصر کی نقل و حرکت کی مانیٹرنگ کا پابند بنا نے کے ساتھ ساتھ مختلف علاقوں میں موجود دہشت گردوں کے تربیتی مراکز کے خلاف اپریشن کیا جائے۔

علامہ ناصر عباس جعفری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں دہشت گردی کے مراکز کی موجودگی کا علم ہونے کے باوجود حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان کے خلاف اپریش کلین اپ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین بارہا یہ باور کراتی رہی ہے کہ بلوچستان اور پنجاب کے وزرائے اعلی کالعدم دہشت گردجما عتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کر چکے ہیں اور یہ غیر منظقی الحاق ملک و قوم کو تباہی کو دہانے پر پہبنچا دے گا لیکن اس کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔

.......

/169